Parah-1, Surah Al Baqarah (1-177)
لوگو ں ! آؤ تعریف کریں اس رب العالمین کی جس کا نظامِ ربوبیت حیرت انگیز اور تمام خوبیوں بڑائیوں اور اچھی
صفاتوں کا بے مثال نمونہ ہے اے اللہ ہم صرف تیری ہی بندگی و فرمانبرداری کرتے ہیں اور اپنی ساری ضرورتوں میں صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں
یہ قرآن ایک عظیم الشان کتاب ہے جو شک و شبہ سے پاک اور متقین کے لیے مستقل ہدایت ہے اور ضابطہ حیات ہے جو لوگ انکارحق کے عادی ہو چکے ہیں ان کے دلوں اور کانوں پرمہر لگا دی ہے ان کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے ہیں۔ لوگو میں ایک گروہ وہ بھی ہے جو زبان سے تو ایماندار ہونے کا مدعی ہے مگر دل سے مومن نہیں یہ لوگ خدا اور بندگان خدا کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں حالانکہ وہ اپنے تئیں خود فریبی کا شکار ہیں افسوس کی یہ دورنگی چال چلنے والے اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ اللہ تعالی ان کے لیے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے تم صرف اور صرف اللہ کی ہی عبادت کرو جو تمام کائنات کا خالق مالک اور پروردگار ہے اور قران مجید سے منہ موڑ کر اللہ سے تعلق نہ بگاڑو اگر تم اس قران مجید کو کلام اللہ کے بجائے کسی انسان کی تصنیف سمجھتے ہو تو اس کا فیصلہ بہت ہی آسان ہے کہ تم بھی انسان ہو اور سب مل کر اس جیسی صرف ایک صورت ہی بنا لاؤ مگر ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ تم کبھی ایسا نہیں کر سکو گے آدم اور اولاد آدم کو اس کرہ ارضی پر خلیفہ بنانے کا ذکر کر کے اسے نصیحت کی کہ ابلیس تمہارا ازلی دشمن ہے اس کے وسوسے کاریوں سے ہوشیار رہنا دیکھو تمہیں عزت جب ہی ملے گی جب تم میری ہدایت پر عمل کرو گے اے بنی اسرائیل میرے ساتھ کیے گئے عہد و پیما پورے کرو اور دین فروشی اور حق فروشی سے گریز کرو حق و صداقت کو جھوٹے من گھڑت قصے کہانیوں اور فرضی حکایتوں کے ساتھ غلط ملط کر کے مشتبہ نہ بناؤ کتمان حق سے پرہیز کرو اور نماز و زکوۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرو وہ ان ہدایت پر عمل کرنا بہت کٹھن کام ہے لیکن جن لوگوں کے دل اپنے اللہ کے اگے جھکنے کے عادی ہیں ان کے لیے کوئی مشکل نہیں
لوگو اس دن کے مواخذہ سے۔ بچنے کا سامان کرو جب کوئ کسی کے کام نہیں آئے گا نہ کسی کے حق میں کسی کی سفارش مانی جائے گی نہ کسی قسم کا کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا پھر اللہ کی نافرمانوں کو کہیں سے کوئی مدد نہ مل سکے گی۔ وادئ سینا میں بنی اسرائیل پر کیے گئے انعامات کا ذکر کر کے ان کی سرکشی کوبیان کیا۔
انجام کار ذلت نامرادی ا ن کا مقدر بن گئ اور ہمیشہ کے لئے عذاب الہی کا نشانہ بن گئے اور یہ سب کچھ ان کی نافرمانی اور سرکشی کے بدولت ہوا بنی اسرائیل کے اس نظریے کی نفی کی گئی کہ ہم نبیوں کی اولاد اور صاحبزادے ہیں اس لیے گرفت الہی سے آزاد ہیں سنو اللہ تعالی کسی مخصوص گروہ کے ساتھ جانبداری کا برتاؤ نہیں کرتا اللہ تعالی کے ہاں زیادہ مقرب وہ ہیں جو ایمان و عمل صالح سے آراستہ ہیں۔
بڑے بڑے معجزات دیکھنے کے باوجود بنی اسرائیل کے دل نرم نہیں ہوئے یہ لوگ کلام الہی کو سمجھنے کے باوجود اس میں تحریف کرتے ہیں اور پھر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے آپ کو جنت کا اٹھکیدار گردانتے ہیں۔ یاد رکھو عذاب جہنم سے نجات کسی قوم کی میراث نہیں بلکہ جو بھی برائی کرے گا وہ سزائیں سزاوار عذاب ہوگا۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو والدین رشتہ داروں یتیموں اور بے کسوں کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ
وہ لوگ کتنے برے لوگ ہیں جو کتاب اللہ کے بعض احکام مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں یہ لوگ حیات دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں گے اور قیامت کے دن بھی سخت ترین عذاب کا لقمہ بنیں گے۔ بعض دین دار لوگ ایسے بھی ہیں جو احکام ان کی طبیعت کے موافق ہوتے ہیں انہیں دل وجان سے تسلیم کیا اور ان کی خواہش کی مخالف ہوئے انہیں رد کر دیا حالانکہ اللہ تعالی کے سارے احکام ماننا چاہیے اس کے باوجود اپنے آپ کو مومن اور جنت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں اورہ کہتے ہیں کہ نجات صرف ہمارا حق ہےاورحال یہ ہے کہ دنیوی زندگانی پر مشرکوں سے بھی زیادہ حریص ہیں
بنی اسرائیل کا حال یہ ہے کہ کتاب الہی کی تعلیم چھوڑ کر سحر اور جادو تعویذ گنڈوں اور ٹونوں ٹوٹنکوں جیسی شیطانی تعلیم و مشرکانہ عملوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یاد رکھو جو شخص اپنا دین اور ایمان بیچ کر جادو گری کا خریدار بنتا ہے اور سفلی و شیطانی عمیالیات حاصل کرتا ہے وہ اپنی عاقبت کو تباہ و برباد کرتا اور آخری نعمتوں کا کونڈا کرتا ہے۔
اے مسلمانو یہودیوں کی مخصوص الفاظ بولنے، بری عادت و اطوار اپنانے، وضع قطع اختیار کرنے، چال ڈھال اور دیگر تمام امور میں مشابہت روا رکھنے سے پرہیز کرو۔عفودرگزر کو مقصد حیات بناؤ اور نماز زکوۃ کی ادائیگی کرو جنت کے حصول کے لیے یہ شرط اول ہے۔
اس کائنات ارضی پر سب سے بدترین وہ گروہ ہے جس کے دلوں میں دوسرے گروہ کی عبادت گاہوں کا احترام اٹھ گیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ عبادت گاہوں کو ڈھا کر ویران کر دیں۔ اصل مومن وہ ہیں جو قرآن مجید کو اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیر کعبہ کا ذکر کیا اور دعائے ابراہیم بیان کی۔ اے خدا اس سرزمین کو امن کا گہوارہ بنا دے ہماری خطاؤں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما۔
یاد رکھو محض بزرگوں کا نام لینے یا ان کے ساتھ کسی قسم کا روحانی یا جسمانی نصب جوڑنے سے کوئی نجات نہیں پا سکے گا۔ بلکہ نجات کے لیے ان جیسے اعمالِ صالح کرنا بھی ضروری ہے۔ لہذا تم اللہ کی رنگ میں رنگ جاؤ اور اس کے رنگ سب سے بڑھ کر دنیا کا کون سا رنگ بہتر ہوسکتاہے؟
مسلمانوں جس طرح تمہارے قبلہ کو مرکزی توحید قرار دیا گیا ہے دیا ہے اسی طرح تم کو ایک اعلی درجہ کی امت بھی بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے حق و صداقت کے چشم دیدہ گواہ رہو اور اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارا ہادی و رہنما ہو۔ یاد رکھو اگر تم قرآن مجید سے منہ موڑ کر منکرین حق کی خواہشات کی پیروی کرو گے تو ظالم ونا فراما ن کہلاؤ گے۔
مسلمانو اللہ نے تمہاری طرف ایک عظیم و شان پیغمبر بھیجا اور دعائے ابراہیم کے مطابق تم کو ایک الہ ایک رسول، ایک کتاب اور ایک قبلہ کا پیرو بنایا تاکہ تم باہم متحد رہو اپنے محسن حقیقی کےاحسانات کو ہمیشہ یاد رکھو ہر دم اس نعمتوں کی شکر گزاری میں ربط اللسان رہو اور کفران نعمت سے بچو۔ اے ایمان والو دین اور دنیا کی کامیابی کے لیے مختلف قسم کی مشکلات و آلام سے دوچار ہونا لازمی ہے مشکلات میں تم صبر و رضا اور نماز ودعا کے ذریعے اپنے اللہ سے مدد حاصل کرو اور ہاں یاد رکھو اللہ کی راہ میں جان دینے والے مرتے نہیں بلکہ حیات جاویداں پاتے ہیں لیکن تم اس زندگی کی حقیقت سے نا آشنا ہو۔صاحبان ایمان کی والہانہ محبت و عقیدت کا محور صرف اللہ کی ذات ہوتی ہے اس روز نہ کسی کا مال و اسباب کسی کے کام آئے گا نہ عزیز و اقارب ساتھ دیں گے اور نہ ہی نام نہاد مذہبی پیشوا ہی انہیں عذاب الہی سے چھڑا سکیں گے۔
شیطان کے نقش قدم پر مت چلو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی حکم کی پیروی کرو اپنے باپ دادا کی جاہلانہ رسموں اور خاندانی روایات کی اندھی تقلید کی بجائے شریعت اسلام پر عمل کرو جو لوگ دینوی مفادات کی خاطر کتمان حق کرتے ہیں۔ احکام دین کی غلط تاویلیں کرتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹوں میں آگ کے دہکتے ہوئے شعلے بھر رہے ہیں