Traweh-2

خلاصہ تراویح (رکوبہ ر کو )

Parah -2, Surah Al Baqarah(178-286), surah Al Imran(1-20)

نیکی صرف پرستش و بندگی یا کسی خاص جہت کو قبلہ بنا لینے کا نام نہیں اور نہ ہی شریعت کی ظاہری رسوم کو بجا لانے کو نیکی کہتے ہیں بلکہ بلکہ اسلام کے نزدیک نیکی عقیدہ و عمل اور ایمان و قلب کی درستی سے پیدا ہوتی ہے مسلمانوں ناحق قتل ہونے والوں کے بارے میں تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے جس میں تمہاری زندگی کا راز مضمر ہے۔ قرآن مجید تمام بنی نو انسان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور حق و باطل کے مابین واضح دلائل کے ذریعے تمیز کرنے والا مشعل نور ہے۔ تم میں سے جو کوئی رمضان کے مہینے کو پائے اور روزہ رکھنے کی سکت رکھتا ہو تو ضرور روزے رکھے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہربان جب میرے بندے میرے متعلق آپ سے پوچھیں تو آپ انہیں بتا دیں کہ میں ان کے قریب ہی ہوں ہر پکارنے والے کی پکار سنتا اور اس کا جواب دیتا ہوں۔ اے مسلمانو امن و سلامتی کے علمبردار بن کر حقیقی معنوں میں مسلمان بنو اور اپنے نام کی لاج رکھو کائنات عرضی پر فتنہ و فساد برپا کرنے والے دشمنان خدا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ہر وقت لڑنے کے لیے تیار رہو اور یاد رکھو کہ جہاد کے حکم سے کوئی شخص بھی مستثنی نہیں پس فتنے کی ازالے اور ہر شخص کو مذہبی آزادی مل جانے تک فتنہ پردازوں سے لڑتے رہو جب ملک و ملت اور دین حق کے لیے مالی قربانی مطلوب ہو تو دل کھول کر خرچ کرو۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے اللہ سے صرف دنیاوی عیش و عشرت مانگا کرتے ہیں ایسے لوگ اخری بھی نعمتوں سے محروم رہیں گے مسلمانوں تم سب کے سب پوری طرح اسلام میں داخل ہو جاؤ کہ نہ تو اپنی طرف سے غلط عقائد گھڑو نہ سنائی باتوں کی پیروی کرو اسی میں تمہاری بھلائی ہے شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے سراپا رحمان کے سراب الرحمان کی سراپہ رحمن کے بندے بن جاؤ۔ دنیا کی زندگی صرف دنیا کے پجاریوں کو ہی بھلی لگتی ہے جبھی تو وہ صاحبان ایمان کی بے سر و سامانی کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ اصل چیز تو اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے مسلمانوں کیا تم خیال کرتے ہو کہ صرف زبان سے ایمان کا اقرار کر کے جنتی ہو جاؤ گے ناممکن بلکہ تمہیں وہ مصائب و آلام اور تکالیف اور سختیاں پیش آ کر رہیں گی جو تم سے پہلے دین حق پر چلنے والوں کو پیش آ چکی ہیں اور سنو تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اگرچہ وہ تمہیں کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو لیکن ضروری تو لیکن ضروری تو نہیں جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ واقعتاً بری ہی ہو۔ شراب و قمار کے بارے میں کہا ہے کہ یہ گناہ کے کام ہیں گو ان میں کچھ فائدے بھی ہیں لیکن ان کا ضررونقصان نفع سے کہیں زیادہ اور دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کام سے بچا جائے جس میں نفع سے زیادہ نقصان ہو۔ طلاق و عدت کے احکام بیان کر کے فرمایا جس طرح دستور کے مطابق عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح مردوں پر بھی عورتوں کے حقوق ہیں تاہم مردوں کو ان کی زمہ داری کیوجہ سے عورتوں پر ایک طرح کی فضیلت اور برتری دی گئی ہے۔ دیکھو احکامات الہی کو مذاق نہ بناؤ  اور نہ ہی انعامات الٰہی کو فراموش کرو اللہ کے ان احکام کو یاد رکھو جو کتاب و حکمت کی صورت میں تمہاری ہدایت کے لیے نازل کیے گئے ہیں ہر حال میں اپنے اللہ سے ڈرتے رہو وہ تمہارے ظاہری حالات سے بھی آگاہ ہے اور تمہاری نیتوں اور ارادوں سے بھی۔ دودھ پلانے کے احکام کا ذکر کر کے فرمایا اللہ تمہارے دلوں کی مخفی کمزوریوں کو اچھی طرح جانتا ہے پس ہر دم اس سے ڈرتے رہو۔

 

اپنی سب نمازوں کو ان کے اوقات مقرر پر ادا کرنے کی کوشش کرو بالخصوص صلاۃ وسطہ یعنی عصر کی نماز کی تو مبالغہ کی حد تک حفاظت کرو  اور سنو نماز کسی حالت میں بھی معاف نہیں ہے۔ زمانہ امن ہو یا جنگ صحت ہو یا مرض وسعت ہو یا فقر ہو نماز ہر حال میں پڑھنی پڑے گی۔ مسلمان اگر تم قومی زندگی و وقار کے متمنی ہو تو تاریخ سے عبرت حاصل کرو ورنہ اللہ کے دشمنوں سے اس کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جنگ کرو. کوئی ہے؟ جو اللہ کو اپنے مال میں سے قرض حسنہ دے اور اس کی راہ میں خرچ کرے تاکہ وہ اس کے مال کو برکت کے ذریعے کئی گنا زیادہ کر دے قوموں کے قیادت و سپہ سالاری کے لیے مال و دولت اور عزت اور جاہ کی نہیں بلکہ تدبر و شعور اور علم و جسم کی قدرتی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔

 ماضی کی تاریخیں شاہد ہیں کہ کتنی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بھاری لشکروں پر غالب آئی ہیں اس لیے کہ جنگوں میں فتح و نصرت کا انحصار لشکروں کی قلت و کثرت پر نہیں عزم و ہمت و ایمان اور یقین پر ہوتا ہے۔ اے اللہ ہمیں صبر عطا فرما ثابت قدمی اور استقامت سے نواز اور نافرمان قوموں پر ہمیں فتح و نصرت دے۔ مسلمانوں اللہ نے جو کچھ تمہیں عطا کیا ہے یہ صرف دنیا کی عیش و عشرت حاصل کرنے کے لیے نہیں اللہ کی راہ میں بھی خرچ کیا کرو اس دارالعمل میں جو کرو گے وہی آخرت میں پاؤ گے اللہ تعالی صرف اہل ایمان و دین حق پر چلنے والوں کا ساتھی ہے جو لوگ ایمان و دین حق سے گریزاں ہوں گے وہ اس کے غضب کا شکار ہوں گے۔ زندگی بعد الموت کے ثبوت کے لیے دو تاریخی واقعات ذکر کر کے فرمایا جو خدا پہلی بار پیدا کر سکتا ہے وہ دوسری بار کیوں پیدا نہیں کر سکتا جو نہیں کر سکتا وہ لوگ پیدا نہیں کر سکتا؟ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال اس دانہ کی سی ہے جو زمین میں سات خوشے نکالتا ہے اور ہر خوشے سے سو سو دانے دیتا ہے اگر تم کسی ضرورت مند کو نہ دے سکو تو کم از کم اس سے نرم گفتاری اور درگزر سے ہی پیش آیا کرو کیونکہ نرم گفتاری اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذا  رسانی ہو۔ مسلمانو اپنے جائزوحلال کی کمائی سے پاکیزہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور دیکھو شیطان اور اس کی روحانی ذریت تمہیں افلا سے ڈرا کر نیکی کی راہوں میں خرچ کرنے سے منع کر تے ہیں اور بدی کے کاموں میں خوب خرچ کرواتے ہیں جس کو حکمت و دانش عطا کی گئی اس کو بہت بڑی دولت نصیب ہو گئی۔ جو لوگ شب و روز اور پوشیدہ و علانیہ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا بدلہ ان کے پروردگار کے پاس محفوظ ہے جو لوگ سود کھاتے ہیں حالانکہ سود ہر صورت میں حرام و ناجائز ہے سود خواہ کتنا ہی بڑھتا چلا جائے آخر کار اس کا انجام مفلسی و بربادی ہے کیونکہ اس میں قطعاً برکت نہیں ہوتی اور سنو جس قدر سود باقی رہ گیا ہو وہ چھوڑ دو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو پھر تمہارے خلاف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ لین دین کے بعد ضروری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا یہ سب مال و زر اور زمین و آسمان کی ساری کائنات اللہ ہی کی ہے ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا ملے گی اے پروردگار اگر ہم  سے خطا کا ارتکاب ہو جائے تو ہمارا مواخذہ  نہ کرنا اور ہم پر اتنا بوجھ نہ ڈال جس کے برداشت کی ہم ضعیفوں میں تاب نہ ہو ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور منکرین حق کے منصوبوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ وہی ذات پاک تو ہے جو رہنحم مادر میں تمہاری صورت ڈھالتا اور نین نقش بناتا ہے اس نے تمہاری روحانی اور جسمانی رہنمائی کے لیے قرآن مقدس نازل کیا اس کی بعض آیات پر واضح اور بعض متشابہات ہیں جن کا حقیقی مفہوم اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ جن لوگوں نے ساز و سامان اور عزت و جاہ کے گھمنڈ میں اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی رو شرکشی کی روش کے بولو اگے سرکشی کی روش سیاہ کر رکھی ہے وہ یاد رکھیں کہ ان کے مال و منال ان کو اللہ کی پکڑ سے نہیں چھڑا سکیں گے اللہ کے نزدیک اصل دین صرف اسلام ہی ہے لہذا اللہ کے فرما بردار بن کر اپنے آپ کو اسلام کے قالب میں ڈھال لو اور یہود و نصارٰی کی طرح اس میں اختلاف نہ کرو ورنہ گروہ بندیوں کا شکار ہو جاؤ گے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top