Prophet Muhammad’s Last Sermon Khutba Hajjatul Wida

خطبہ حجۃ الوداع

انسانی حقوق کا جامع منشور

ہجری 9 ذوالحجہ 6 مارچ 632 عیسوی ,10-

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوال کے وقت اونٹنی قصویٰ پر سوار ہوکر میدان عرفات میں تشریف لائے اور اونٹنی پر ہی خطبہ ارشاد فرمایا۔یہ خطبہ اسلام کے دعوتی اسلوب،نظریاتی افکار ،اخلاقی تعلیمات ، انسانی حقوق اور معاشرتی نظام کے جامع دستور العمل کی حیثیت رکھتاہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ارشاد فرمایا:

توحید

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ یکتا ہے کوئی اس کا ساجھی نہیں اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ تنہا اسی کی ذات نے باطل کی ساری مجتمع قوتوں کو زیر کیا۔ لوگو میری بات سنو میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں یکجا ہو سکیں گے(اور غالبا اس سال کے بعد میں حج نہ کر سکوں گا۔).

مساوات

لوگو اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو. تم میں زیادہ عزت و اکرام والا وہی ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا ہے.  کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر. کالا گورے سے افضل ہے نہ  گورا کالے سے ۔  ہاں بزرگی اور فضیلت کا معیار تقوی ہے انسان سارے آدم علیہ السلام کی ہی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے کہ وہ مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ اب فضیلت و برتری کے سارے دعوے خون و مال کے سارے مطالبے اور سارے انتقام میرے پاؤں تلے روندے جا چکے ہیں۔ بس بیت اللہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمات اعلیٰ باقی رہیں گی۔

خود احتسابی

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! قریش کے لوگوں ایسا نہ ہو کہ اللہ کے حضور تم اس طرح آؤ کہ تمہارے گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ ہو اور دوسرے لوگ سامان آخرت لے کر پہنچیں۔ اور اگر ایسا ہوا تو میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام ہ اس  آسکوں گا

عفو و درگزر

دیکھو  دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں تلے رون دیا ہے زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کلعدم ہیں۔ پہلا انتقام جسے میں کلعدم قرار دیتا ہوں میرے اپنے خاندان کا ہے؛ ربیعہ بن الحارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ہزیل نے مار ڈالا تھا اب میں اسے معاف کرتا ہوں۔ دور جاہلیت کا سود اب کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ پہلا سود جسے میں چھوڑتا ہوں عباس بن عبد المطلب کے خاندان کا سود ہے۔ اب یہ ختم ہو گیا ھے

تحفظِ جان و مال اور آبرو

لوگو تمہاری جان و مال اور عزتیں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں ۔ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہے جیسے تمہارے اس دن کی اور اس ماہ مبارک( ذوالحج) کی خاص طور پر اس شہر میں ہے. تم سب اللہ کے حضور پیش ہو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت باز پرس فرمائے گا

حقوق زوجین

دیکھو بیوی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کا مال اس کی اجازت کے بغیر کسی کو دے۔ یقینا تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے کچھ حقوق ہیں اسی طرح ان پر تمہارے حقوق واجب ہیں۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جیسے تم پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی خیانت نہ کریں اور کھلی بے حیائی کا کوئی کام نہ کریں ۔اگر وہ ایسا کریں تو اللہ کی جانب سے اس کی اجازت ہے کہ تم ان کے  بستر الگ کر دو اور انہیں معمولی جسمانی سزا دو اگر وہ باز  آجائیں تو انہیں اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ

عورتوں کے حقوق

عورتوں سے بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تمہاری مددگار ہیں اورخود اپنے لیے وہ کچھ نہیں کر سکتی چنانچہ ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے انہیں اللہ کے نام پر حاصل کیا اور اس کے نام پر   ہ تمہارے لیے حلال ہو ئیں

وراثت

لوگو! اللہ نے ہر حقدار کو اس کا حق خود دیا ہے اب کوئی کسی وارث کے لیے وصیت نہ کرے

نسب

بچہ اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پہ پیدا ہوا ہو۔ جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا پتھر ہے حساب و  کتاب اللہ کے ہاں ہوگا

نسب سے وفاداری

جو کوئی اپنا نصب بدلے گا یا کوئی غلام اپنے آقا کے مقابلے میں کسی اور کو اپنا آقا ظاہر کرے گا اس پر اللہ کی لعنت۔

احسان و دیانت داری

قرض واجب الادہ ہے۔  عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کی جائے۔ تحفے کا بدلہ دیا جائے اور جو شخص جس کا ضامن ہے وہ تاوان ادا کرے۔

باہمی حقوق

خبردار! اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا. نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اور نہ ہی بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا ۔کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے کچھ لے سوائے اس کے کہ جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور اس کو خوشی  سےدے دے۔ لہذا اپنے اوپر ظلم نہ کرنا۔

اخوت اسلامی

 ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور مسلمان آپس میں بھائی بھائ۔

غلاموں کے حقوق

 اپنے غلاموں کا خیال رکھو انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ  جو تم خود پہنتے ہو

ادائیگی امانت

 دیکھو! کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں کشت و خون کرنے لگو۔ اگر کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے تو وہ اس بات کا پابند ہے کہ امانت رکھوانے والے کو امانت پہنچا دے

اعتدال و میانہ روی

لوگوں! میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہوگی۔ میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اس پر قائم رہے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت ۔ اورہاں دیکھو! دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے لوگ انہی باتوں کے سبب ہلاک کر دیے گئے۔ شیطان کو اس بات کی کوئی توقع نہیں رہی کہ اس شہر میں اب اس کی عبادت کی جائے گی ۔ لیکن اس بات کا امکان ہے کہ ایسے معاملات میں جنہیں تم کم اہمیت دیتے ہو اس کی بات مان لی جائے اور اسی پر وہ راضی رہے۔ اس لیے تم اس سے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرنا۔

ارکان اسلام

دیکھو! اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، اپنے اموال کی زکوۃ کو خوش دلی سے دیتے رہو،  اپنے اللہ کے گھر کا حج کرو اور اپنے حکام کی اطاعت کرو تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

حدود اللہ کا احترام

لوگو! محترم مہینوں کی ترتیب میں تغیر کرنا عہد جاہلیت کا اضافہ ہے جس کی بنیاد پر کفار گمراہ ہوتے رہے کہ ایک سال تو اس ماہ میں جنگ جائز ہو جاتی ہے اور دوسرے سال وہی ماہ محترم مانا جاتا ہے۔ اس طرح وہ اللہ کے قائم کردہ مہینوں کے عدد کو پورا کرتے ہیں اور دیکھو! زمانہ اسی صورت پر لوٹ آیا ہے ۔جس روز اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا اور مہینوں کی تعداد سے متعلق جان لو ان میں چار مہینے محترم ہیں جن میں سے تین تو مسلسل آتے ہیں (ذوالقعد، ذوالحجہ اور محرم) جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہے۔

فریضہ تبلیغ

جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہیے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو  بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو، کبھی سننے والا پہنچانے والے سے زیادہ نے والا ہوتا ہے۔

۔

شہادت حق

 تم سے میرے بارے میں (اللہ کے ہاں)  سوال کیا جائے گا بتاؤ تم کیا جواب دو گے؟  لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت (دین) پہنچا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق رسالت ادا فرمایا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔ یہ سن کر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا “اے اللہ گواہ رہنا !اے اللہ گواہ رہنا اے اللہ گواہ رہنا

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کو ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ سے فارغ ہوچکے تو جبرائیل امین اللہ عزوجل کی طرف سے یہ وحی لے کر نازل ہوئے:

ؕ اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَاَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا 
’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین پسند کرلیا۔

‘‘حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو رونے لگے۔ اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے الوداع ہونے والے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top