خلاصہ تراویح (رکوبہ ر کو )
Khulasha Traweh-3
Surah Al Imrn(21-200)
یہودیوں کے اخلاق و دینی بگاڑ کا ایک سبب ان کی خود ساختہ عقیدہ آخرت سے میں یہ خرابی بیان کہ ہم تو خدا کے چہتے ہیں اوربہرحال جنت ہماری ہے اور اس قسم کے غلط خیالات نے بڑے بڑے جرائم کے ارتکاب پر بھی انہیں بے باک اور جری بنا دیا پھر دعا سکھا دی کہو اےکائنات کے بادشاہ تو بادشاہت دیتا ہے جس کو چاہتا ہےاور چھین لیتا ہے جںں سے چاہتا ہے۔عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اورچھین لیتا ہے جسے چاہتا ہے اے مومنو اپنے مومن اور مسلمان بھائیوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ اگر اللہ سے محبت کا دعوی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا پھر حضرت مریم علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے جو زکریہ علیہ السلام نے مریم علیہ السلام کے پاس ان کی عبادت گاہ میں بے موسم پھل دیکھے تو ان کے دل میں نیک اولاد کی آرزو پیدا ہوئی جسے اللہ تعالی نے پورا کیا حضرت مریم علیہ السلام کو صنفی تعلق کے بغیر بچہ پیدا ہونے کی بشارت دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام جب پیدا ہوئے تو گہوارے میں ہی گفتگو شروع کر دی کہ میں اللہ کا نبی اور اس کا بندہ ہوں اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو کچھ معجزات عنایت کیے جن کا تذکرہ کیا گیا جب بنی اسرائیل نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی سازش کی کہ اللہ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور عیسائیوں کو ان کی غلط عقیدے پر تنبیہ کی اگر عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کے بغیر پیدا ہونا ان کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے کی دلیل بن سکتی ہے تو آدم علیہ السلام تو بدرجہ اولیٰ خدا بن سکتے جو کہ بغیر باپ اور ماں کے پیدا ہوئے ہیں پھر عیسائی پادریوں کو مقابلے کی دعوت دی کہ ان سے کہو کہ آؤ ایک کھلے میدان میں دعا کریں جو جھوٹا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے پھر عیسائیوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ آؤ اس بات پہ اتفاق کر لو کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت بندگی نہیں کرو گے اور انسانوں کو خدا نہیں بناؤ گے اے اہل کتاب تم حق کو جان بوجھ کر کیوں چھپاتے ہو؟ جو لوگ دنیوی مفاد کے لیے اللہ کے حکم کو بدلتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے سخت سزا ہے کچھ یہودی علماء اپنے طرف سے بات بنا کر یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا حکم ہے حالانکہ وہ خدا کا حکم نہیں ہوتا یہ جھوٹے لوگ ہیں کیا یہ لوگ اللہ کے دین اور طریقہ زندگی کو چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں حالانکہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کی فرمانبرداری کر رہی ہے اور تمام انبیاء بھی اسلام پر تھے ان لوگوں کو کیسے ہدایت مل سکتی ہے جو نعمت ایمان پانے کے بعد کفر رویے اختیار کرتے ہیں اسلام میں شکوک وھ شبہات پیدا کرتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور جہنم کی سزا سے بچنے کے لیے کوئی روئے زمین بھر کر بھی سونا بدلے میں دے دےتو قبول نہیں ہوگا ۔نیکی کی اصل روح خدا کی محبت ہے اور اس کی رضا کے لیے ہر محبوب چیز کو قربان کرنا ہے سب سے پہلی عبادت گاہ اور مرکز ہدایت مکہ میں ہے ہر صاحب استطاعت پر اس کی زیارت فرض ہے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے اللہ کے دین کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑھو اللہ تعالی نے نعمت ایمان ہی کی وجہ سے تمہارے دل آپس میں جوڑ دیے ہیں جبکہ تم ہلاکت کے قریب پہنچ چکے تھے اللہ نے تمہیں بچا لیا تم میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں جونیکی کیطرف بلائیں اور برائی سے روکیں ایسے لوگ ہی کامیاب ہیں تم بہترین امت ہو کیونکہ تمہیں نیکی کرنے کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے پیدا کیا گیاھے چونکہ یہود نے انبیاء کو قتل کیا اور سرکشی کی اس لیے ان پر ذلت و رسوائی کی ہمیشہ مار پڑے گی۔ لیکن سب اہل کتاب برابر نہیں ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں راتوں کو آیات کی تلاوت اور سجدے کرتے ہیں اے ایمان والوں کافروں کو اپنا گہرا دوست نہ بناؤ یہ ظاہری دوستی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے دلوں میں بغض اور حسد ہے جنگ بدر کے موقع پر فرمایا اگر تم نے صبرکیا اور خوف خدا کے ساتھ کام کیا تو اللہ کی طرف سے نصرت و فتح کی خوشخبری ہے پھر اللہ تعالی نے فرشتوں کے ذریعے مدد کی
دوڑ کے چلو اس راہ پر جو مغفرت اور جنت کی طرف جاتی ہے وہ جنت جس کی وسعت زمین اور آسمان جیسی ہے جو کہ خدا سے ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو تنگدستی اور خوشحالی میں اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کرتے ہیں گناہ کرتے ہیں گناہ ہو جائے تو فوراً اس کی معافی مانگتے ہیں غم نہ کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو غزوہ احد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو اکثر صحابہ کی ہمت ٹوٹ گئی اس موقع پر تنبیہ کی گئی کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو اللہ کے ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں یا شہید ہو جائیں تو کیا تم اپنا دین چھوڑ دو گے موت کا وقت تو ہر وقت ہر ایک کے لیے مقرر ہے احد میں مسلمانوں کی شکست کے بعد جب یہود اور اور منافقین نے یہ خیال مسلمانوں میں پھیلانے کی کوشش کی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اگر نبی ہوتے تو شکست کیوں کھاتے تو اللہ تعالی نے ان آیات میں اس کا جواب دیا کہ عنقریب مسلمانوں کو فتح ہو گی اور ہم کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے اے پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ اللہ کی بڑی رحمت اور نعمت ہے کہ آپ ان لوگوں کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں ورنہ اگر آپ سنگ دل اور تند خوہوتے تو یہ سب آپ کے گرد سے بھاگ جاتے اللہ تعالی اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں ہے اور وہ تمہیں چھوڑ دے تو کون ہے جو تمہاری مدد کو آئے گا،؟ ان منافقین سے جب کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ضرور لڑتے یہ لوگ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب ہیں۔ ایمان والوں سے جب کہا گیا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہو گئی ہیں ان سے ڈرو تو یہ بات سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یہ کفار اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ایمان کو چھوڑ کر دنیا کی خریدار بنے ہوئے ہیں ہم تو انہیں اس کے اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ خوب گناہوں کا بوجھ سمیٹ لیں ان کے لیے ذلیل کرنے والی سزا ہے آزمائشوں کے ذریعے اللہ تعالی پاک لوگوں کو ناپاک سے الگ کرتا رہتا ہے جب یہ آیات نازل ہوئی کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنا دے تو یہودیوں نے مذاق اڑایا کہ اب تو اللہ میاں بھی مفلس ہو گئے اور بندوں سے قرض مانگتے ہیں اللہ تعالی اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ بات بھی ہم نے ان کے جرائم کی فہرست میں شامل کر دی اخر کار آخر ہر شخص کو مرنا ہے جو وہاں دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے تو کامیاب درحقیقت وہی ہے جو دنیا تو محض ایک ظاہری فریب ہے زمین اور آسمان اور دین رات میں ہوش مند لوگوں کے لیے بے شمار نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں جب غور و فکر کرتے ہیں تو بے اختیار بول اٹھتے ہیں پروردگار یہ سب کچھ تو نے بیکار نہیں بنایا ہمیں جہنم سے بچا لے جو اس میں ڈال دیا گیا وہ بڑی رسوائی میں ڈال دیا گیا اے پروردگار قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کرنا